دو مرحلے، ایک مقصد
دارالعلوم لاہور جوہر ٹاؤن، لاہور میں ایک بین الاقوامی اسلامی تعلیمی ادارہ ہے، جو اب اپنے دوسرے سال میں ہے۔ اس کی بنیاد مولانا محمد عبید الرحمٰن نے رکھی، جو اس کے پرنسپل بھی ہیں۔ یہ مکمل درسِ نظامی نہیں کرواتا، بلکہ درسِ نظامی سے پہلے اور اس کے بعد کے مرحلوں پر کام کرتا ہے۔
درسِ نظامی سے پہلے: حفاظِ کرام یہاں اپنی بنیاد مضبوط کرتے ہیں: عربی اور انگریزی میں روانی، حفظ الحدیث اور میٹرک کی مکمل تعلیم۔ پھر وہ اپنا راستہ خود چنتے ہیں؛ چاہے عالم بنیں، جج یا ڈاکٹر، ان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
درسِ نظامی کے بعد: عالمیہ میں کم از کم 70% نمبر لینے والے علماء کے لیے دو الگ شعبے ہیں: تخصص فی اللغۃ الانجلیزیۃ اور تخصص فی اللغۃ العربیۃ۔ دونوں ایک ایک سال کے ہیں اور ہر ایک کی اپنی الگ کلاس ہے۔
ادارے میں دو سالہ شعبۂ تجوید بھی ہے، اور آن لائن شعبہ بھی، جو اندرون و بیرونِ ملک طلبہ کو تجوید، قرآن اور حفظ پڑھاتا ہے۔ دارالعلوم لاہور کا الحاق دارالعلوم نیویارک (امریکہ) سے ہے۔
ہمارا وژن، مشن اور مقاصد
ہمارا وژن
حفاظ کی ایسی نسل جو قرآن کو سینوں میں محفوظ رکھے اور مضبوط بنیاد پر کھڑی ہو، چاہے عالم بنے، جج یا ڈاکٹر؛ اور ایسے علماء جو کسی مالی لالچ کے بغیر عربی اور انگریزی کے ذریعے دنیا بھر میں دین کی خدمت کریں۔
ہمارا مشن
حفاظِ کرام کو عربی اور انگریزی میں روانی، حفظ الحدیث اور میٹرک دینا؛ علماء کو انگریزی اور عربی لغت کے دو الگ شعبوں میں پڑھانا اور ساتھ ہی گھر والوں کی کفالت کے ہنر سکھانا؛ اور یہ یقینی بنانا کہ کوئی مستحق طالب علم پیسے کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہ رہے۔
ہمارے اہداف
زندگی بھر پختہ حفظ
روزانہ دہرائی اور باقاعدہ زبانی امتحان، تاکہ ہر حافظ کا قرآن پہلے سال سے آخری سال تک پختہ رہے۔
علم جو کردار بنائے
کتابوں کے ساتھ ادب، اخلاق اور نظم و ضبط کی تعلیم، تاکہ علم عمل میں نظر آئے۔
عربی میں روانی
عربی ایک زندہ زبان کے طور پر، بولنے اور لکھنے کی روانی کے ساتھ، تاکہ قرآن و حدیث براہِ راست سمجھ آئیں۔
دعوت و تبلیغ کے لیے انگریزی
انگریزی میں اتنی روانی کہ پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ اور تدریس کر سکیں اور سوالوں کے جواب دے سکیں۔
ہر راستے کے لیے مضبوط بنیاد
اولیٰ کے ساتھ سائنس میں میٹرک، تاکہ حافظ آگے عالم، جج یا ڈاکٹر بن سکے۔
فارغ التحصیل علماء کے لیے ہنر
ہر شعبے میں سال کے آخر میں ایک ماہ کا ہنر کورس، تاکہ علماء گھر والوں کی کفالت کریں اور کسی کے مال کی طرف دیکھے بغیر دین کی خدمت کریں۔
حفاظ کورس
حفاظ کے لیے درسِ نظامی سے پہلے کا چار سالہ بنیادی کورس، جس میں دینی تعلیم اور اسکول کی تعلیم ساتھ ساتھ چلتی ہے، تاکہ طالب علم کو دونوں میں سے ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔
حفظ الحدیث
احادیث کا حفظ، اور ساتھ ہی انگریزی زبان۔
عربی زبان
عربی زبان کی تعلیم، اور ساتھ ہی حفظ الحدیث کا اگلا حصہ۔
اولیٰ نہم
اولیٰ، یعنی درسِ نظامی کا پہلا سال، اور ساتھ ہی میٹرک کی نویں جماعت (سائنس گروپ)۔
اولیٰ دہم
اولیٰ کا بقیہ حصہ، اور ساتھ ہی میٹرک کی دسویں جماعت (سائنس گروپ)۔
چار سال مکمل ہونے تک طالب علم قرآن کو محفوظ رکھتا ہے، احادیث حفظ کر لیتا ہے، عربی اور انگریزی میں روانی حاصل کر لیتا ہے، اولیٰ مکمل کر لیتا ہے اور سائنس کے ساتھ میٹرک پاس کر لیتا ہے: آگے درسِ نظامی، قانون، طب یا کوئی بھی شعبہ ہو، بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
حفاظ کورس · 4 سال
عربی، انگریزی، حفظ الحدیث اور میٹرک
کوئی بھی راستہ
درسِ نظامی، قانون، طب یا کوئی اور شعبہ
علماء کے دو شعبے
تخصص فی اللغۃ الانجلیزیۃ اور تخصص فی اللغۃ العربیۃ، ہر ایک 1 سال
ہر راستہ کھلا رہتا ہے
ہمارے حفاظ میٹرک کے ساتھ عربی اور انگریزی سیکھتے ہیں، اس لیے حفاظ کورس کے بعد وہ جو بھی راستہ چنیں، اس کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
درسِ نظامی
درسِ نظامی کی کتابیں عربی میں ہیں۔ جو حافظ پہلے سے عربی روانی سے پڑھتا اور بولتا ہو، وہ ان کتابوں کو براہِ راست اور آسانی سے سمجھتا ہے، اور اپنی جماعت کے نمایاں طلبہ میں شامل ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
MBBS، CSS، PMS یا کوئی اور شعبہ
کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کی بنیادی زبان انگریزی ہے۔ جس طالب علم کی انگریزی رواں ہو، اس کے لیے بہت سے مضامین کہیں زیادہ آسان ہو جاتے ہیں، وہ اعتماد سے پڑھتا ہے اور نمایاں رہتا ہے، کیونکہ آج انگریزی میں روانی کو معاشرے میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں تعلیم کے مزید مواقع
تجوید
تجوید سالِ اول اور سالِ دوم، اور ساتھ ہی قرآنِ کریم کی تعلیم، جس میں حفظِ قرآن کا کچھ حصہ بھی شامل ہے۔
آن لائن شعبہ
برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک کے نجی طلبہ کے لیے گھر بیٹھے تجوید، قرآن اور حفظ؛ نیویارک کے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسیں۔
علماء کے لیے لغت کے دو شعبے
ہمارے ہاں آنے والے علماء درسِ نظامی مکمل کر چکے ہوتے ہیں اور شہادۃ العالمیہ میں کم از کم 70% نمبر حاصل کر چکے ہوتے ہیں، اس لیے وہ حدیث، فقہ، تفسیر، اصولِ فقہ اور باقی مضامین میں پہلے سے مضبوط ہیں۔ ان کے علم اور دنیا کے درمیان اصل رکاوٹ زبان ہے۔
اردو وہ پہلے سے جانتے ہیں۔ اور دو بین الاقوامی زبانیں عربی اور انگریزی ہیں، اس لیے دونوں کا الگ الگ شعبہ ہے؛ دونوں ایک ایک سال کے ہیں اور ہر ایک کی اپنی کلاس ہے۔ ہم انہیں عالم نہیں بناتے، وہ پہلے سے عالم ہیں؛ ہم ان کی صلاحیتیں نکھارتے اور اعتماد بڑھاتے ہیں۔
تخصص فی اللغۃ الانجلیزیۃ
انگریزی میں ایسی روانی کہ دنیا بھر میں دعوت و تبلیغ، تدریس، افتاء، ترجمہ اور تصنیف کا کام کر سکیں۔
تخصص فی اللغۃ العربیۃ
عربی ایک زندہ زبان کے طور پر: عربی میں بولنا، پڑھانا، لکھنا اور دعوت دینا، اور عرب دنیا تک براہِ راست رسائی۔
عید الفطر 1448ھ (2027ء) کے بعد آغازہر میدان میں دین کی خدمت
دعوت و تبلیغ
اسلام کا پیغام دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچانا۔
تدریس
مدارس، اسکولوں اور آن لائن، انگریزی اور عربی میں۔
افتاء
لوگوں کے سوالوں کے جواب ان کی اپنی زبان میں۔
ترجمہ
تفسیر، حدیث اور فقہ کی کتابوں کا انگریزی اور عربی میں ترجمہ۔
تصنیف
ہر جگہ کے قارئین کے لیے کتابیں اور مضامین۔
الحاد کا جواب
الحاد اور جدید شبہات کا علم اور حکمت سے جواب۔
بیرونِ ملک خدمت
نو مسلموں کی رہنمائی، اور امام و استاد کی حیثیت سے مسلم کمیونٹیز کی خدمت۔
خطبات اور دروس
روبرو اور آن لائن خطابات اور دروس۔
اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے ہنر
ہر شعبے میں سال کے آخری مہینے میں علماء کو عملی ہنر کا مختصر کورس کروایا جاتا ہے۔ دن میں ایک دو گھنٹے کام کر کے وہ گھر کا خرچ خود اٹھا سکتے ہیں، تاکہ انہیں دین پڑھا کر کمانے یا لوگوں کے مال کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ پڑے، کیونکہ دین کمائی کا ذریعہ نہیں۔
آن لائن کلاسیں: گھر بیٹھے، دنیا بھر میں
نجی طلبہ: برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک کے طلبہ دارالعلوم لاہور میں داخلہ لے کر اپنے گھر سے آن لائن تجوید، قرآن اور حفظ پڑھ سکتے ہیں۔ انہیں دارالعلوم لاہور کے اساتذہ براہِ راست ویڈیو کلاس میں پڑھاتے ہیں۔ کئی طلبہ اس وقت اسی طرح زیرِ تعلیم ہیں۔
بیرونِ ملک طلبہ: یہ شعبہ بیرونِ ملک طلبہ کو بھی آن لائن دینی تعلیم دیتا ہے، جو اس وقت نیویارک، امریکہ میں جاری ہے۔ وہاں طلبہ اپنی درس گاہ میں لیپ ٹاپ اور ہیڈفون کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ہمارے اساتذہ لاہور سے انہیں براہِ راست پڑھاتے ہیں۔
امتحانات
دارالعلوم لاہور میں طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا اندازہ گمان سے نہیں، باقاعدہ جانچ سے لگایا جاتا ہے۔ طلبہ چار ماہی تحریری اور زبانی امتحانات دیتے ہیں، اور نتائج کلاس رجسٹروں میں درج کیے جاتے ہیں۔ یہ تصویریں ادارے میں ایک تحریری امتحان کے دوران لی گئیں۔
طلبہ کی زندگی
دارالعلوم لاہور میں تعلیم صرف سبق تک محدود نہیں۔ طلبہ مل کر کھانا کھاتے ہیں، اور اپنی جگہوں کی دیکھ بھال خود کرتے ہیں: فرش دھوتے ہیں، ہال صاف کرتے ہیں اور ہر چیز کو صاف ستھرا اور منظم رکھتے ہیں۔ نظم، صفائی اور خدمت عمل سے سیکھی جاتی ہے۔
مل کر کھانا
کھانا ایک ہی دسترخوان پر مل کر کھایا جاتا ہے۔
جگہوں کی صفائی
طلبہ ہال اور راہداریاں خود دھوتے اور صاف کرتے ہیں۔
اپنی چیزوں کی حفاظت
صفیں، کمرے اور سامان صاف ستھرے اور منظم رکھے جاتے ہیں۔
طلبہ، اساتذہ اور بانی
طلبہ
اس وقت 60 طلبہ داخل ہیں۔
اساتذہ
پرنسپل کی سربراہی میں 7 اساتذہ کی ٹیم حدیث، فقہ، عربی، انگریزی، تجوید اور میٹرک کے مضامین پڑھاتی ہے، اور آن لائن شعبے کے ذریعے گھروں میں اور بیرونِ ملک طلبہ کو بھی پڑھاتی ہے۔
- بانی و پرنسپل، دارالعلوم لاہور
- رکن، دارالعلوم نیویارک (امریکہ)
- سربراہ آن لائن شعبہ، دارالعلوم نیویارک (امریکہ)
بانی کا تعارف
محمد عبید الرحمٰن نے دارالعلوم لاہور اس یقین کے ساتھ قائم کیا کہ حافظِ قرآن کو بھی علم، زبان اور اعتماد کے ساتھ جدید دنیا کا سامنا کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ پرنسپل کی حیثیت سے وہ ادارے کی تعلیم اور انتظام کی نگرانی کرتے ہیں، حفاظ کورس اور شعبۂ تجوید سے لے کر علماء کے لیے لغت کے دونوں شعبوں اور آن لائن شعبے تک۔ وہ دارالعلوم نیویارک (امریکہ) کے رکن اور اس کے آن لائن شعبے کے سربراہ بھی ہیں۔
- تعلیم
- درسِ نظامی، جامعہ اشرفیہ لاہور
- تدریسی تجربہ
- 7 سال سے زیادہ
- زیرِ تدریس مضامین
- حدیث، فقہ، عربی اور انگریزی
- ذمہ داری
- تمام شعبوں کی تعلیم اور انتظام کی سربراہی
داخلہ، فیس اور کفالت
داخلہ
- حفاظ کورس: ان طلبہ کے لیے جو قرآن حفظ کر چکے ہیں۔
- تجوید: دو سالہ کورس، اور ساتھ ہی قرآنِ کریم کی تعلیم۔
- تخصص فی اللغۃ الانجلیزیۃ: عالمیہ میں کم از کم 70% نمبر لینے والے علماء کے لیے انگریزی لغت کا ایک سالہ شعبہ۔
- تخصص فی اللغۃ العربیۃ: عالمیہ میں کم از کم 70% نمبر لینے والے علماء کے لیے عربی لغت کا ایک سالہ شعبہ، عید الفطر 1448ھ (2027ء) کے بعد آغاز۔
- آن لائن شعبہ: گھر بیٹھے آن لائن تجوید، قرآن اور حفظ، اندرون و بیرونِ ملک۔
- داخلے کے لیے پچھلی تعلیم میں کم از کم 70% نمبر ضروری ہیں۔
فیس اور کفالت
فیس ماہانہ ادا کی جاتی ہے۔ جو طلبہ فیس ادا نہیں کر سکتے، ان کی انفرادی کفالت دارالعلوم ٹرسٹ (دارالعلوم لاہور کا شعبۂ خیرات) کرتا ہے۔
آن لائن داخلہ فارم
داخلے کے لیے یہ فارم بھریں؛ ہم آپ سے واٹس ایپ یا فون پر رابطہ کریں گے۔ پچھلی تعلیم میں کم از کم 70% نمبر ضروری ہیں (علماء کے لیے شہادۃ العالمیہ میں)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
دارالعلوم لاہور کے بانی کون ہیں؟
دارالعلوم لاہور کی بنیاد مولانا محمد عبید الرحمٰن نے رکھی، جو اس کے پرنسپل بھی ہیں۔ انہوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور سے درسِ نظامی کیا، اور حدیث، فقہ، عربی اور انگریزی پڑھاتے ہیں۔
دارالعلوم لاہور کے پرنسپل کون ہیں؟
ادارے کے بانی مولانا محمد عبید الرحمٰن ہی اس کے پرنسپل ہیں، اور ان کی سربراہی میں 7 اساتذہ کی ٹیم پڑھاتی ہے۔
دارالعلوم لاہور کہاں ہے؟
دارالعلوم لاہور جوہر ٹاؤن، لاہور میں ہے۔ پتا: 786 شاہراہِ نظریۂ پاکستان، ایچی سن سوسائٹی، نزد آرامکو پمپ، شیر علی روڈ، لاہور۔
دارالعلوم لاہور میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟
حفاظ کورس (چار سال: حفظ الحدیث، عربی، انگریزی اور میٹرک)، دو سالہ تجوید، علماء کے لیے تخصص فی اللغۃ الانجلیزیۃ اور تخصص فی اللغۃ العربیۃ (ایک ایک سال)، اور آن لائن شعبہ جس میں تجوید، قرآن اور حفظ پڑھایا جاتا ہے۔
کیا دارالعلوم لاہور کا دارالعلوم نیویارک سے تعلق ہے؟
جی ہاں۔ دارالعلوم لاہور کا دارالعلوم نیویارک (امریکہ) سے الحاق ہے۔ اس کے بانی مولانا محمد عبید الرحمٰن دارالعلوم نیویارک کے رکن اور اس کے آن لائن شعبے کے سربراہ ہیں۔
اگر طالب علم فیس ادا نہ کر سکے تو؟
فیس ماہانہ ادا کی جاتی ہے۔ جو طلبہ فیس ادا نہیں کر سکتے، ان کی انفرادی کفالت دارالعلوم ٹرسٹ (دارالعلوم لاہور کا شعبۂ خیرات) کرتا ہے۔
تشریف لائیں یا داخلہ لیں
لاہور یا بیرونِ ملک سے والدین اور طلبہ داخلے اور آن لائن کلاسوں کے لیے واٹس ایپ یا ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ پر پیغام بھیجیںفیس بک پر ہمارا پیج